# کیا زنا سے سچے دل سے توبہ کرنے والے مرد کے لیے پاک دامن لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے؟

**Institution:** Darul Ifta Kauzariyya
**Category:** Social Matters
**Madhab (School):** Hanafi
**Mufti / Jurist:** Anwar Navas Kousari
**Published Date:** January 01, 1970
**Canonical URL:** https://mail.daruliftakauzariyya.com/fatwa-archive/1028-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%B2%D9%86%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D8%B3%DA%86%DB%92-%D8%AF%D9%84-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92

---

## Question

ایک زانی مرد جو زنا سے سچی پکّی توبہ کر چکا ہے اور اسکا نکاح غیر زانیہ پاکدامن لڑکی کے ساتھ ہوگیا ہےکیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں۔جبکہ سورہ نور میں ہے کی زانی مرد کے لئے زانیہ عورت ہے اور مومن سے زانی مرد عورت کا نکاح حرام ہے

## Answer / Fatwa Ruling

اس برائی میں مبتلا ہونا جوازِ نکاح سے مانع نہیں ہے، یعنی لڑکا اور لڑکی اگر دونوں مسلمان ہیں اور دونوں کے درمیان حرمت کا کوئی رشتہ بھی نہیں اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے دونوں کا نکاح ہوجائے &nbsp; تو وہ صحیح اور منعقد ہوجاتا ہے&nbsp; آیت کریمہ میں زنا کی قباحت کا بیان ہے،کسی حکم شرعی کا بیان نہیں ہے، یعنی: زنا اس قدر قبیح اور برا کام ہے کہ جو شخص اس گندے فعل کا ارتکاب کرتا ہے، اس کا نیک لوگوں سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا، اس کا جوڑ اپنے جیسے برے لوگوں یعنی: بدکار مرد یا بدکار عورت سے ہوتا ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ زنا کار مرد، کسی نیک خاتون سے نکاح کے لائق نہیں ہوتا، وہ صرف اپنی جیسی بدکار عورت یا اس سے بھی زیادہ بری: مشرکہ عورت سے نکاح کے لائق ہوتا ہے۔ اسی طرح بدکار عورت کسی نیک مرد سے نکاح کے لائق نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ اپنے جیسے بدکار مرد یا اس سے بھی زیادہ برے: مشرک مرد سے نکاح کے لائق ہوتی. جب کے سوال میں مذکور شخص اپنے گناہ سے توبہ بھی کر لیے لہاذا اس سے نکاح کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں

---
*© 2026 Darul Ifta Kauzariyya. Verified and published according to the Islamic legal sources.*